- Aug 10
- 15 min read
رسول اللہ کے اسماء اور القاب صلى الله عليه وآله وسلم قرآنِ کریم کی آیات میں
(1) مبارک لقب: «العَالِم» — جاننے والے
وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ وَ رَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَ مَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَ مَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَ أَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَ كَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيماً
اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے آپ کو گمراہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن وہ اپنے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتے اور آپ کو کسی طرح نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی اور آپ کو وہ کچھ سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے، اور آپ پر اللہ کا فضل بہت عظیم ہے۔
سورۂ نساء، آیت 113
امام رضا (عليه السلام):
إِنَّ الْأَنْبِیَاءَ وَ الْأَئِمَّةَ یُوَفِّقُهُمُ اللَّهُ وَ یُؤْتِیهِمْ مِنْ مَخْزُونِ عِلْمِهِ وَ حِکَمِهِ مَا لَا یُؤْتِیهِ غَیْرَهُمْ
اللہ اپنے انبیاء اور ائمہ (عليهم السلام) کو توفیق عطا فرماتا ہے اور اپنے پوشیدہ علم اور حکمت کے خزانوں میں سے انہیں وہ عطا کرتا ہے جو دوسروں کو عطا نہیں کرتا۔
📚 مصادر: الکافی ج1 ص201 / بحارالأنوار ج25 ص127 / الاحتجاج ج2 ص436 / الأمالی للصدوق ص677 / کمال الدین ج2 ص678
(2) مبارک لقب: «اَلْحَاكِمُ» — فیصلہ کرنے والے
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوا تَسْلِيماً
آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک حقیقی مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مانیں، پھر آپ کے فیصلے کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور مکمل طور پر تسلیم کریں۔
سورۂ نساء، آیت 65
امام صادق (عليه السلام)، عبداللہ کاہلی سے منقول:
لَوْ أَنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِیکَ لَهُ ... ثُمَّ قَالُوا لِشَیْءٍ صَنَعَهُ اللَّهُ أَوْ صَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ (صلی الله علیه و آله) أَلَّا صَنَعَ خِلَافَ الَّذِی صَنَعَ ... لَکَانُوا بِذَلِکَ مُشْرِکِینَ
اگر کچھ لوگ صرف اللہ کی عبادت کریں، اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں، حج کریں اور رمضان کے روزے رکھیں، لیکن اللہ یا رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے کسی عمل کے بارے میں کہیں کہ کاش اس کے برعکس کیا جاتا، تو اس وجہ سے وہ شرک میں مبتلا ہوجائیں گے۔
📚 مصادر: الکافی ج1 ص390 / بحارالأنوار ج2 ص205 / المحاسن ج1 ص271 / بصائرالدرجات ص520 / العیاشی ج1 ص255 / مستدرک الوسائل ج18 ص184
(3) مبارک لقب: «اَلْخَاتَمُ» — خاتمِ انبیاء
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَ لَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَ كَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً
محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں، اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
سورۂ احزاب
رسول اللہ (صلى الله عليه وآله):
إِنَّمَا مَثَلِی فِی الْأَنْبِیَاءِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی دَاراً فَأَکْمَلَهَا وَ حَسَّنَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ ... فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ، خُتِمَ بِیَ الْأَنْبِیَاءُ
انبیاء کے درمیان میری مثال ایسے شخص کی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے خوبصورت اور مکمل کیا، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے۔ میں اس اینٹ کی جگہ ہوں، اور میرے ذریعے نبوت کا سلسلہ مکمل ہوا۔
(یہ روایت صحیح بخاری اور مسلم میں بھی نقل ہوئی ہے۔)
📚 مصادر: نور الثقلین ج4 ص285 / کنز الدقائق و بحر الغرائب ج10 ص400
(4) مبارک لقب: «ألشَّاهِدُ» — گواہ
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِداً وَ مُبَشِّراً وَ نَذِيراً
اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہ، بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔
سورۂ احزاب، آیت 45
امام حسن مجتبیٰ (عليه السلام):
أَمَّا الشَّاهِدُ فَمُحَمَّدٌ (صلی الله علیه و آله) وَ أَمَّا الْمَشْهُودُ فَیَوْمُ الْقِیَامَةِ
لفظ “شاہد” سے مراد حضرت محمد (صلى الله عليه وآله) ہیں اور “مشہود” سے مراد قیامت کا دن ہے۔
📚 مصادر: بحار الأنوار ج43 ص345 / کشف الغمة ج1 ص543
(5) مبارک لقب: «طه»
طه * مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى
ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ خود کو مشقت میں ڈالیں۔
سورۂ طہ، آیات 1 اور 2
امام صادق (عليه السلام)، سفیان بن سعید ثوری سے منقول:
وَ أَمَّا طه فَاسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ النَّبِیِّ (صلی الله علیه و آله) وَ مَعْنَاهُ یَا طَالِبَ الْحَقِّ الْهَادِیَ إِلَیْهِ
“طہ” نبی اکرم (صلى الله عليه وآله) کے اسماء میں سے ایک نام ہے اور اس کا معنی ہے: اے حق کے طالب اور اس کی طرف رہنمائی کرنے والے۔
📚 مصادر: بحار الأنوار ج89 ص373 / معانی الأخبار ص22 / نور الثقلین ج3 ص367
(6) مبارک لقب: «اَلشَّاكِرُ» — شکر گزار
شَاكِراً لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَ هَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ * وَ آتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ إِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ اللہ نے انہیں منتخب کیا اور سیدھے راستے کی ہدایت دی۔ ہم نے دنیا میں انہیں بھلائی عطا کی اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہوں گے۔
سورۂ نحل، آیات 121–122
امام باقر (عليه السلام):
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً (صلی الله علیه و آله) عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ اجْتَبَاهُ وَ هَدَاهُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد (صلى الله عليه وآله) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے انہیں منتخب کیا اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی فرمائی۔
📚 مصادر: بحارالأنوار ج46 ص347 / الکافی ج8 ص349 / عوالم العلوم ج19 ص303
(7) مبارک لقب: «اَلْمُجَاهِدُ» — مجاہد
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنَافِقِينَ وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمَصِيرُ
اے نبی! کافروں اور منافقوں کے مقابلے میں جہاد کریں اور ان کے ساتھ سختی اختیار کریں۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا انجام ہے۔
سورۂ توبہ، آیت 73 اور سورۂ تحریم، آیت 9
يَا أَيُّهَا اَلنَّبِيُّ جَاهِدِ اَلْكُفَّارَ وَ اَلْمُنَافِقِينَ؛ فَجَاهَدَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ اَلْكُفَّارَ فِي حَيَاتِهِ وَ أَمَرَ عَلِيّاً بِجِهَادِ اَلْمُنَافِقِينَ
رسول اکرم (صلى الله عليه وآله) نے اپنی زندگی میں کفار کے مقابلے میں جہاد کیا اور امیرالمؤمنین علی (عليه السلام) کو منافقین کے مقابلے میں جہاد کا حکم دیا۔
📚 مصادر: بحار الأنوار ج41 ص59 / المناقب ج2 ص66
امام صادق (عليه السلام):
هَکَذَا نَزَلَتْ فَجَاهَدَ رَسُولُ اللَّهِ (صلی الله علیه و آله) الْکُفَّارَ وَ جَاهَدَ عَلِیٌّ (علیه السلام) الْمُنَافِقِینَ فَجَاهَدَ عَلِیٌّ (علیه السلام) جِهَادَ رَسُولِ اللَّهِ (صلی الله علیه و آله)
یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) نے کفار کے مقابلے میں جہاد کیا اور علی (عليه السلام) نے رسول اللہ کے جہاد کی طرح منافقین کے مقابلے میں جہاد کیا۔
📚 مصادر: القمی ج2 ص377 / بحار الأنوار ج29 ص426
(8) مبارک لقب: «اَلصَّابِرُ» — صبر کرنے والے
وَ إِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ * وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَ لَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ
اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ کیا گیا، لیکن اگر صبر کرو تو صبر کرنے والوں کے لیے یہی بہتر ہے۔ صبر کرو، اور تمہارا صبر اللہ ہی کی مدد سے ہے۔ ان کے سبب غمگین نہ ہو اور ان کی سازشوں سے دل تنگ نہ کرو۔
سورۂ نحل، آیات 126–127
امام صادق (عليه السلام):
یَقُولُ لِنَبِیِّهِ (صلی الله علیه و آله) حِینَ مُثِّلَ بِحَمْزَةَ (رحمة الله علیه): وَ إِنْ عاقَبْتُمْ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِلصَّابِرِینَ فَصَبَرَ رَسُولُ اللَّهِ (صلی الله علیه و آله) وَ لَمْ یُعَاقِبْ
جب حضرت حمزہ (رحمة الله عليه) کے جسم کی بے حرمتی کی گئی تو اللہ نے اپنے نبی سے یہ آیت فرمائی۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) نے اس حکم کی وجہ سے صبر کیا اور بدلہ نہیں لیا۔
📚 مصادر: بحارالأنوار ج47 ص298 / إقبال الأعمال ص578 / مستدرک الوسائل ج2 ص415
(9) مبارک لقب: «اَلرَّاضِي» — راضی رہنے والے
فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوبِهَا
جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر صبر کریں، اور سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں، تاکہ آپ اللہ کی عطاؤں سے راضی ہوں۔
سورۂ طہ، آیت 130
امام صادق (عليه السلام):
اصْبِرْ عَلی ما یَقُولُونَ یَا مُحَمَّدُ (صلی الله علیه و آله) مِنْ تَکْذِیبِهِمْ إِیَّاکَ فَإِنِّی مُنْتَقِمٌ مِنْهُمْ بِرَجُلٍ مِنْکَ وَ هُوَ قَائِمِی
یعنی: اے محمد! ان لوگوں کے آپ کو جھٹلانے پر صبر کریں۔ میں آپ کی نسل کے ایک مرد کے ذریعے ان سے انتقام لوں گا، اور وہ میرا قائم (عليه السلام) ہے۔
📚 مصدر: بحار الأنوار ج24 ص220
امام باقر (عليه السلام):
فَاصْبِرْ عَلی ما یَقُولُونَ: دَفْعِهِمْ وَلَایَةَ امیرالمؤمنین (علیه السلام)
یعنی: اے نبی! امیرالمؤمنین (عليه السلام) کی ولایت کو ان کے رد کرنے پر صبر کریں۔
📚 مصادر: بحار الأنوار ج39 ص262 / المناقب ج3 ص206
(10) مبارک لقب: «اَلدَّاعِي» — اللہ کی طرف بلانے والے
وَ دَاعِياً إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَ سِرَاجاً مُنِيراً
اور ہم نے آپ کو اللہ کی طرف اس کے اذن سے بلانے والا اور روشن چراغ بنایا۔
سورۂ احزاب، آیت 46
رسول اللہ (صلى الله عليه وآله)، ابوذر سے خطاب کرتے ہوئے:
إِنَّ أَوَّلَ عِبَادَةِ اللَّهِ الْمَعْرِفَةُ بِهِ ... ثُمَّ الْإِیمَانُ بِی وَ الْإِقْرَارُ بِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَی أَرْسَلَنِی إِلَی کَافَّةِ النَّاسِ بَشِیراً وَ نَذِیراً وَ داعِیاً إِلَی اللهِ بِإِذْنِهِ وَ سِراجاً مُنِیراً
عبادت کا پہلا مرحلہ اللہ کی معرفت ہے ... پھر مجھ پر ایمان لانا اور یہ اقرار کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام لوگوں کی طرف بشارت دینے والا، خبردار کرنے والا، اس کے اذن سے اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔
📚 مصادر: بحار الأنوار ج74 ص75 / مکارم الأخلاق ج1 ص458
امام باقر (عليه السلام)، امیرالمؤمنین (عليه السلام) کا خطبہ نقل کرتے ہوئے:
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً (صلی الله علیه و آله) عَبْدُهُ الْمُصْطَفَی وَ رَسُولُهُ الْمُجْتَبَی ... دَاعِیاً إِلَیْهِ بِإِذْنِهِ وَ سِراجاً مُنِیراً
میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلى الله عليه وآله) اللہ کے منتخب بندے اور برگزیدہ رسول ہیں، جنہیں پروردگار نے اپنے اذن سے اپنی طرف بلانے والا اور روشن چراغ قرار دیا۔
📚 مصادر: بحار الأنوار ج86 ص234 / مصباح المتهجد ج1 ص384
(11) مبارک لقب: «اَلْهَادِي» — ہدایت کرنے والے
وَ كَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحاً مِنْ أَمْرِنَا ... وَ إِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف ایک روح کی وحی کی ... اور یقیناً آپ سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتے ہیں۔
سورۂ شوریٰ، آیت 52
امام باقر (عليه السلام):
وَ إِنَّکَ لَتَهْدِی إِلی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ یَعْنِی أَنَّکَ لَتَأْمُرُ بِوَلَایَةِ عَلِیٍّ (علیه السلام) وَ تَدْعُو إِلَیْهَا وَ عَلِیٌّ (علیه السلام) هُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ
اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا: یعنی آپ لوگوں کو علی (عليه السلام) کی ولایت قبول کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں، اور علی (عليه السلام) ہی صراطِ مستقیم ہیں۔
📚 مصادر: بحارالأنوار ج35 ص367 / القمی ج2 ص280
(12) مبارک لقب: «اَلتَّالِي» — تلاوت کرنے والے
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الْحِكْمَةَ
وہی ہے جس نے امّی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
سورۂ جمعہ، آیت 2
امام صادق (عليه السلام):
إِنَّ النَّبِیَّ (صلی الله علیه و آله) کَانَ یَقْرَأُ وَ یَکْتُبُ وَ یَقْرَأُ مَا لَمْ یُکْتَبْ
نبی اکرم (صلى الله عليه وآله) پڑھتے اور لکھتے تھے، اور وہ چیز بھی پڑھ لیتے تھے جو لکھی نہ گئی ہو۔
📚 مصادر: بصائرالدرجات ج1 ص27 / البرهان ج5 ص375 / بحار الأنوار ج16 ص134
(13) مبارک لقب: «اَلنَّاهِي» — منع کرنے والے
مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ مَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَ اتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
سورۂ حشر، آیت 7
امام صادق (عليه السلام):
إِنَّ اللَّهَ عزّوجلّ أَدَّبَ رَسُولَهُ حَتَّی قَوَّمَهُ عَلَی مَا أَرَادَ ثُمَّ فَوَّضَ إِلَیْهِ ... فَمَا فَوَّضَ اللَّهُ إِلَی رَسُولِهِ فَقَدْ فَوَّضَهُ إِلَیْنَا
اللہ نے اپنے رسول کی تربیت فرمائی، یہاں تک کہ انہیں اپنی پسند کے مطابق کامل کیا۔ پھر امور ان کے سپرد کیے ... اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کے سپرد کیا، رسول اللہ نے اسے ہم اہل بیت کے سپرد کیا۔
📚 مصادر: الکافی ج1 ص268 / بحارالأنوار ج17 ص6
امام باقر (عليه السلام):
إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ مُحَمَّداً (صلی الله علیه و آله) عَبْداً فَأَدَّبَهُ حَتَّی إِذَا بَلَغَ أَرْبَعِینَ سَنَةً أَوْحَی إِلَیْهِ وَ فَوَّضَ إِلَیْهِ الْأَشْیَاءَ
اللہ نے اپنے بندوں کے امور کا اختیار نبی اکرم (صلى الله عليه وآله) کو عطا کیا تاکہ ظاہر ہو کہ مخلوق کس طرح ان کی اطاعت کرتی ہے۔
📚 مصادر: بصائرالدرجات ص378 / بحارالأنوار ج25 ص331
(14) مبارک لقب: «اَلْآمِرُ» — حکم دینے والے
وَ أْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقاً نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى
اپنے اہل کو نماز کا حکم دیں اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہیں۔ ہم آپ سے رزق نہیں مانگتے، بلکہ ہم ہی آپ کو رزق دیتے ہیں، اور بہترین انجام تقویٰ والوں کے لیے ہے۔
سورۂ طہ، آیت 132
امام باقر (عليه السلام):
فَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَهُ أَنْ یَخُصَّ أَهْلَهُ دُونَ النَّاسِ لِیَعْلَمَ النَّاسُ أَنَّ لِأَهْلِ مُحَمَّدٍ (صلی الله علیه و آله) عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً خَاصَّةً لَیْسَتْ لِلنَّاسِ
اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اس حکم میں اپنے اہل بیت کو دوسروں سے مخصوص کریں، تاکہ لوگ جان لیں کہ خاندانِ محمد (صلى الله عليه وآله) کو اللہ کے نزدیک ایک خاص مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔
📚 مصادر: بحار الأنوار ج35 ص237 / عوالی اللآلی ج2 ص22
(15) مبارک لقب: «اَلصَّادِعُ» — کھل کر اعلان کرنے والے
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ
جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے کھل کر بیان کریں اور مشرکین سے منہ موڑ لیں۔
سورۂ حجر، آیت 94
امام صادق (عليه السلام):
اکْتَتَمَ رَسُولُ اللَّهِ (صلی الله علیه و آله) بِمَکَّةَ مُخْتَفِیاً خَائِفاً خَمْسَ سِنِینَ ... ثُمَّ أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ أَنْ یَصْدَعَ بِمَا أُمِرَ بِهِ فَظَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ وَ أَظْهَرَ أَمْرَهُ
رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) مکہ میں پانچ سال تک خوف کی حالت میں پوشیدہ رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اپنی رسالت کو کھل کر بیان کریں، چنانچہ رسول اللہ ظاہر ہوئے اور اپنے امر کو آشکار کیا۔
📚 مصادر: کمال الدین ج2 ص344 / البرهان ج3 ص389 / بحار الأنوار ج18 ص176
امام صادق (عليه السلام):
قِیلَ لِلنَّبِیِّ (صلی الله علیه و آله): فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ فِی أَمْرِ عَلِیٍّ (علیه السلام) فَإِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ
نبی اکرم (صلى الله عليه وآله) کو وحی ہوئی کہ علی (عليه السلام) کے بارے میں جس چیز کا حکم دیا گیا ہے اسے کھل کر بیان کریں، کیونکہ یہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے۔
📚 مصادر: بحارالأنوار ج23 ص381 / البرهان ج3 ص631 / تأویل الآیات ج1 ص286
(16) مبارک لقب: «اَلصَّادِقُ» — سچے
ص، وَ الْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ
ص۔ قسم ہے ذکر والے قرآن کی۔
سورۂ ص، آیت 1
(17) مبارک لقب: «اَلْقَانِتُ» — عبادت گزار
أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِداً وَ قَائِماً يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَ يَرْجُوا رَحْمَةَ رَبِّهِ
کیا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں فرمانبرداری کے ساتھ عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں اور کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے، دوسروں کے برابر ہوسکتا ہے؟
سورۂ زمر، آیت 9
(18) مبارک لقب: «اَلْحَافِظُ» — محافظ
لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللهِ
ہر شخص کے آگے اور پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے محافظ مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔
سورۂ رعد، آیت 11
📚 مصادر: بحار الأنوار ج16 ص101 / المناقب ج1 ص150
(19) مبارک لقب: «اَلْعَظِيمُ» — عظیم
وَ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
اور یقیناً آپ عظیم اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔
سورۂ قلم، آیت 4
امام صادق (عليه السلام)، فضیل بن یسار سے منقول:
إِنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ أَدَّبَ نَبِیَّهُ فَأَحْسَنَ أَدَبَهُ فَلَمَّا أَکْمَلَ لَهُ الْأَدَبَ قَالَ إِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیمٍ ثُمَّ فَوَّضَ إِلَیْهِ أَمْرَ الدِّینِ وَ الْأُمَّةِ
اللہ عزوجل نے اپنے نبی کی بہترین تربیت فرمائی۔ جب ان کی تربیت کو کامل کیا تو فرمایا: “بے شک آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔” پھر دین اور امت کے امور ان کے سپرد فرمائے۔
📚 مصادر: الکافی ج1 ص266 / بحارالأنوار ج17 ص4
(21) مبارک لقب: «اَلْكَرِيمُ» — کریم و بزرگوار
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ
بے شک یہ ایک بزرگوار رسول کے ذریعے پہنچایا ہوا کلام ہے۔
سورۂ تکویر، آیت 19
امیرالمؤمنین علی (عليه السلام):
إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَ تَعَالَی أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلَی سَبْعَةِ أَقْسَامٍ ... فَأَفْضَلُ الْأَنْبِیَاءِ الْخَمْسَةُ وَ أَفْضَلُ الْخَمْسَةِ مُحَمَّدٌ (صلی الله علیه و آله)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کو سات حصوں میں نازل فرمایا ... انبیاء میں سب سے افضل پانچ ہیں، اور ان پانچ میں سب سے افضل محمد (صلى الله عليه وآله) ہیں۔
📚 مصدر: بحارالأنوار ج90 ص87
(22) مبارک لقب: «اَلرَّحيمُ» — مہربان
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ
یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان پر بہت گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری ہدایت کے بہت خواہش مند ہیں اور مومنین کے لیے نہایت شفیق اور مہربان ہیں۔
سورۂ توبہ، آیت 128
رسول اللہ (صلى الله عليه وآله)، عبداللہ بن سلام سے:
اللہ میری رأفت اور رحمت کے سبب میری تعریف فرماتا ہے اور قرآن میں فرماتا ہے:
لَقَدْ جاءَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ ... رَؤُفٌ رَحِیم
📚 مصادر: بحار الأنوار ج9 ص291 / الاحتجاج ج1 ص49
امیرالمؤمنین علی (عليه السلام)، رسول اللہ سے نقل کرتے ہیں:
حُبِّی خَالَطَ دِمَاءَ أُمَّتِی فَهُمْ یُؤْثِرُونِّی عَلَی الْآبَاءِ وَ عَلَی الْأُمَّهَاتِ وَ عَلَی أَنْفُسِهِمْ
میری محبت میری امت کے خون میں رچ بس گئی ہے، اسی لیے وہ مجھے اپنے والدین اور حتیٰ اپنی جانوں پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔
📚 مصادر: بحار الأنوار ج16 ص341 / إرشادالقلوب ج2 ص406
(23) مبارک لقب: «اَلْمُسْتَقِيمُ» — ثابت قدم
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اسی طرح ثابت قدم رہیں، اور وہ لوگ بھی جو آپ کے ساتھ اللہ کی طرف پلٹے ہیں۔ سرکشی نہ کرو، بے شک وہ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔
سورۂ ہود، آیت 112
رسول اللہ (صلى الله عليه وآله):
شَیَّبَتْنِی هُودٌ. فَقِیلَ لَهُ فِی ذَلِکَ فَقَالَ: قَوْلُهُ فَاسْتَقِمْ کَما أُمِرْتَ
رسول اللہ نے فرمایا: “سورۂ ہود نے مجھے بوڑھا کردیا۔” پوچھا گیا: سورۂ ہود کی کون سی آیت؟ فرمایا: اللہ کا یہ فرمان: “جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے ثابت قدم رہیں۔”
📚 مصدر: شرح نهج البلاغة ج11 ص213
(24) مبارک لقب: «اَلْبَشِيرُ» — بشارت دینے والے
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيراً وَ نَذِيراً وَ لَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ
ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے، اور آپ سے اہلِ جہنم کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔
سورۂ بقرہ، آیت 119
رسول اللہ (صلى الله عليه وآله):
أَنَّ أَوَّلَ عِبَادَةِ اللَّهِ الْمَعْرِفَةُ بِهِ ... ثُمَّ الْإِیمَانُ بِی وَ الْإِقْرَارُ بِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَی أَرْسَلَنِی إِلَی کَافَّةِ النَّاسِ بَشِیراً وَ نَذِیراً
اللہ کی عبادت کا پہلا مرحلہ اس کی معرفت ہے ... پھر مجھ پر ایمان لانا اور یہ اقرار کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام انسانوں کی طرف بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔
📚 مصدر: بحارالأنوار ج74 ص75
(25) مبارک لقب: «اَلْعَزِيزُ» — عزیز و گرامی
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ
یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں جن پر تمہاری تکلیف بہت گراں گزرتی ہے۔
سورۂ توبہ، آیت 128
امیرالمؤمنین علی (عليه السلام):
فَمَنَّ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْکُمْ بِمُحَمَّدٍ (صلی الله علیه و آله) فَبَعَثَهُ إِلَیْکُمْ رَسُولاً مِنْ أَنْفُسِکُمْ ... فَکَانَ الرَّسُولُ إِلَیْکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ بِلِسَانِکُمْ فَعَلَّمَکُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَةَ
اللہ عزوجل نے محمد (صلى الله عليه وآله) کے ذریعے تم پر احسان فرمایا اور انہیں تم ہی میں سے رسول بنا کر تمہاری طرف بھیجا۔ وہ تم ہی میں سے تھے، تمہاری زبان میں بات کرتے تھے اور تمہیں کتاب، حکمت اور سنت کی تعلیم دیتے تھے۔
📚 مصادر: بحار الأنوار ج33 ص566 / الغارات ج1 ص199
(26) مبارک لقب: «اَلْقَوِيُّ» — قوت والے
ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ
وہ صاحبِ قوت ہیں اور صاحبِ عرش کے حضور بلند مقام رکھتے ہیں۔
سورۂ تکویر، آیت 20
آیت «وَ مَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ» کے ذیل میں روایت ہے:
قَالَ النَّبِیُّ (صلی الله علیه و آله) لِجَبْرَئِیلَ (علیه السلام): هَلْ أَصَابَکَ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ شَیْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنِّی کُنْتُ أَخْشَی عَاقِبَةَ الْأَمْرِ فَأَمِنْتُ بِکَ لَمَّا أَثْنَی عَلَیَّ بِقَوْلِهِ ذِی قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِینٍ
اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) نے جبرائیل (عليه السلام) سے فرمایا: “کیا اس رحمت میں سے کچھ تمہیں بھی ملا ہے؟” انہوں نے عرض کیا: “جی ہاں۔ مجھے اپنے انجام کے بارے میں خوف تھا، لیکن آپ کی برکت سے مجھے اطمینان ملا جب اللہ نے میری تعریف ان الفاظ میں کی: ‘صاحبِ قوت اور صاحبِ عرش کے حضور صاحبِ مقام۔’”
📚 مصدر: بحارالأنوار ج16 ص306
(27) مبارک لقب: «اَلْمُسْتَغْفِرُ» — استغفار کرنے والے
فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ
جان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اپنے لیے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت طلب کریں۔
سورۂ محمد، آیت 19
(28) مبارک لقب: «اَلْمُصَلِّي» — نماز ادا کرنے والے
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ
بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔ پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ یقیناً آپ کا دشمن ہی بے نسل اور منقطع ہوگا۔
سورۂ کوثر
(29) مبارک لقب: «اَلْمُصَدِّقُ» — تصدیق کرنے والے
وَ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقاً لِمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ
اس چیز پر ایمان لاؤ جو میں نے نازل کی ہے، جو تمہارے پاس موجود کتاب کی تصدیق کرتی ہے، اور اس کے سب سے پہلے منکر نہ بنو۔
سورۂ بقرہ، آیت 41
امام حسن عسکری (عليه السلام):
مُصَدِّقاً لِما مَعَکُمْ فَإِنَّ مَثَلَ هَذَا فِی کِتَابِکُمْ أَنَّ مُحَمَّداً (صلی الله علیه و آله) النَّبِیَّ سَیِّدُ الْأَوَّلِینَ وَ الْآخِرِینَ الْمُؤَیَّدُ بِسَیِّدِ الْوَصِیِّینَ
اس کی مثال تمہاری کتاب، یعنی یہودیوں کی کتاب میں یہ ہے کہ محمد (صلى الله عليه وآله) نبی، اولین و آخرین کے سردار ہیں اور سید الاوصیاء علی (عليه السلام) کے ذریعے ان کی تائید کی جاتی ہے۔
📚 مصادر: بحارالأنوار ج9 ص178 / تأویل الآیات الظاهرة ص55
(30) مبارک لقب: «اَلْمُسَبِّحُ» — اللہ کی تسبیح کرنے والے
وَ لَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ * فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ
ہم یقیناً جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔ پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔
سورۂ حجر، آیات 97–98
امام صادق (عليه السلام):
إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ بَعَثَ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ، فَأَمَرَهُ بِالصَّبْرِ وَ اَلرِّفْقِ ... فَضَاقَ صَدْرُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ «وَ لَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ»
اللہ عزوجل نے محمد (صلى الله عليه وآله) کو مبعوث کیا اور انہیں صبر اور نرمی کا حکم دیا۔ جب ان کا سینہ تنگ ہوا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: “ہم یقیناً جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔”
📚 مصادر: وسائل الشیعة ج15 ص261 / الکافی ج2 ص88 / بحار الأنوار ج68 ص60
رسول اللہ (صلى الله عليه وآله):
مَا أُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ اِجْمَعِ اَلْمَالَ وَ كُنْ مِنَ اَلتَّاجِرِينَ وَ لَكِنْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِنَ اَلسَّاجِدِينَ وَ اُعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ اَلْيَقِينُ
مجھے یہ وحی نہیں کی گئی کہ مال جمع کرو اور تاجروں میں شامل ہوجاؤ، بلکہ مجھے یہ وحی کی گئی کہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو، سجدہ کرنے والوں میں شامل رہو اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ یقین تمہارے پاس آجائے۔
📚 مصادر: روضة الواعظین ج2 ص454 / بحار الأنوار ج69 ص47
Comments