
امیرالمؤمنین (ع) کے کلام میں رسولِ خدا (ص) کے فضائل
امیرالمؤمنین علی (ع) کے بیس ارشادات، جن میں حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں
حضرت محمد مصطفیٰ (ص) اور امیرالمؤمنین علی (ع)، جیسا کہ خود ان حضرات نے بیان فرمایا، عالمِ خلقت میں ایک ہی نور ہیں۔ ماہِ مبارک ربیع الاول، جو رسولِ خدا (ص) کی ولادت کا مہینہ ہے، میں مناسب ہے کہ ہم آپ (ص) کے اوصاف اس ہستی کی زبان سے سنیں جو سب سے زیادہ آپ کے قریب تھی۔
ذیل میں امیرالمؤمنین (ع) کے نورانی کلام سے بیس اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں رسولِ اکرم (ص) کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ یہ اقتباسات نہج البلاغہ، بحار الانوار علامہ مجلسی، مکارم الاخلاق اور کتاب الغارات سے لیے گئے ہیں۔ ان میں رسولِ خدا (ص) کے مبارک چہرے اور اخلاق سے لے کر امیرالمؤمنین (ع) کی آپ کی آغوش میں پرورش، غارِ حرا کی خلوت، اور آخر میں آپ کے پاکیزہ جسم کے پاس امیرالمؤمنین (ع) کے آخری وداع تک کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔
۱۔ آپ کی رسالت کا نور
ہمارے مولا امیرالمؤمنین (ع) نے رسولِ اکرم (ص) کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا:
«اِبْتَعَثَهُ بِالنُّورِ الْمُضِيءِ، وَ الْبُرْهَانِ الْجَلِيِّ، وَ الْمِنْهَاجِ الْبَادِي، وَ الْكِتَابِ الْهَادِي»
"اللہ نے انہیں ایک روشن نور، واضح دلیل، آشکار راستے اور ہدایت کرنے والی کتاب کے ساتھ مبعوث فرمایا۔"
ماخذ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۶۱
۲۔ وہ حجت اور ہدایت جو آپ لے کر آئے
ہمارے مولا امیرالمؤمنین (ع) نے رسولِ اکرم (ص) کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا:
«أَرْسَلَهُ بِحُجَّةٍ كَافِيَةٍ، وَ مَوْعِظَةٍ شَافِيَةٍ، وَ دَعْوَةٍ مُتَلَافِيَةٍ ؛ أَظْهَرَ بِهِ الشَّرَائِعَ الْمَجْهُولَةَ، وَ قَمَعَ بِهِ الْبِدَعَ الْمَدْخُولَةَ، وَ بَيَّنَ بِهِ الْأَحْكَامَ الْمَفْصُولَةَ»
"اللہ نے انہیں کافی حجت، شفا دینے والی نصیحت اور نجات بخش دعوت کے ساتھ بھیجا۔ ان کے ذریعے اللہ نے ان شریعتوں کو ظاہر کیا جو لوگوں سے پوشیدہ ہو چکی تھیں، ان باطل بدعتوں کو ختم کیا جو دین میں داخل ہو گئی تھیں، اور ان احکام کو واضح کیا جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔"
ماخذ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۶۱
۳۔ "اپنے نبی کو نمونہ بناؤ"
ہمارے مولا امیرالمؤمنین (ع) نے فرمایا:
«فَتَأَسَّ بِنَبِيِّكَ الْأَطْيَبِ الْأَطْهَرِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ ؛ فَإِنَّ فِيهِ أُسْوَةً لِمَنْ تَأَسَّى، وَ عَزَاءً لِمَنْ تَعَزَّى ؛ وَ أَحَبُّ الْعِبَادِ إِلَى اللهِ الْمُتَأَسِّي بِنَبِيِّهِ وَ الْمُقْتَصُّ لِأَثَرِهِ»
"اپنے پاکیزہ اور پاک نبی (ص) کو اپنا نمونہ قرار دو؛ کیونکہ جو شخص کسی نمونے کی تلاش میں ہو، اس کے لیے وہ بہترین نمونہ ہیں، اور جو تسلی چاہتا ہو اس کے لیے وہ باعثِ تسلی ہیں۔ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب بندہ وہ ہے جو اپنے نبی کو نمونہ بنائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلے۔"
ماخذ: مکارم الاخلاق، ج ۱، ص ۸؛ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۶۰
۴۔ برگزیدہ نبی پر درود
امیرالمؤمنین (ع) نے رسولِ اکرم (ص) پر درود بھیجتے ہوئے فرمایا:
«اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى نَبِيِّكَ الْمُصْطَفَى ؛ عَيْنِ الْبَرِيَّةِ طِفْلاً، وَ خَيْرِهَا شَابّاً وَ كَهْلاً ؛ أَطْهَرِ الْمُطَهَّرِينَ شِيمَةً، وَ أَجْوَدِ الْمُسْتَمْطَرِينَ دِيمَةً»
"اے اللہ! اپنے برگزیدہ نبی پر درود نازل فرما؛ جو بچپن میں مخلوق کی آنکھوں کا نور اور جوانی و پختگی میں ان سب سے بہتر تھے؛ پاکیزہ لوگوں میں سب سے پاکیزہ سیرت رکھنے والے اور ان سب میں سب سے زیادہ سخی تھے جن سے خیر و برکت کی بارش مانگی جاتی ہے۔"
ماخذ: مصباح الزائر، ج ۱، ص ۵۱؛ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۰۵
۵۔ بہترین خاندان اور بہترین درخت
«أُسْرَتُهُ خَيْرُ أُسْرَةٍ، وَ شَجَرَتُهُ خَيْرُ شَجَرَةٍ ؛ أَغْصَانُهَا مُعْتَدِلَةٌ، وَ ثِمَارُهَا مُتَهَدِّلَةٌ»
"ان کا خاندان بہترین خاندان اور ان کا شجرہ بہترین شجرہ ہے؛ اس کی شاخیں متوازن ہیں اور اس کے پھل جھکے ہوئے اور قریب ہیں۔"
ماخذ: نہج البلاغہ، خطبہ ۱۶۱
۶۔ سب سے زیادہ سخی اور بہترین ساتھی
«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ أَجْوَدَ النَّاسِ كَفّاً، وَ أَكْرَمَهُمْ عِشْرَةً ؛ مَنْ خَالَطَهُ فَعَرَفَهُ أَحَبَّهُ»
"رسولِ خدا (ص) لوگوں میں سب سے زیادہ سخی اور معاشرت میں سب سے زیادہ کریم تھے۔ جو بھی ان کے ساتھ رہتا اور انہیں پہچان لیتا، ان سے محبت کرنے لگتا۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۲۳۰، مکارم الاخلاق کے حوالے سے
۷۔ "میں نے ان جیسا کسی کو نہیں دیکھا"
«كَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ كَفّاً، وَ أَجْرَأَ النَّاسِ صَدْراً، وَ أَصْدَقَ النَّاسِ لَهْجَةً، وَ أَوْفَاهُمْ ذِمَّةً، وَ أَلْيَنَهُمْ عَرِيكَةً، وَ أَكْرَمَهُمْ عِشْرَةً ؛ مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ، وَ مَنْ خَالَطَهُ فَعَرَفَهُ أَحَبَّهُ ؛ لَمْ أَرَ مِثْلَهُ قَبْلَهُ وَ لَا بَعْدَهُ»
"وہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی، سب سے زیادہ دلیر، سب سے زیادہ سچے، عہد کے سب سے زیادہ وفادار، سب سے زیادہ نرم مزاج اور معاشرت میں سب سے زیادہ کریم تھے۔ جو انہیں پہلی مرتبہ دیکھتا، ان کی ہیبت سے متاثر ہوتا، اور جو ان کے ساتھ رہتا اور انہیں پہچانتا، ان سے محبت کرنے لگتا۔ میں نے نہ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد ان جیسا کسی کو دیکھا۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۲۳۱
۸۔ آپ کا قد اور بال
«لَمْ يَكُ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ، وَ لَا الْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ ؛ وَ كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ ؛ وَ لَمْ يَكُ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَ لَا السَّبِطِ، كَانَ جَعْداً رَجِلاً»
"آپ نہ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت چھوٹے؛ بلکہ درمیانہ قد رکھتے تھے۔ آپ کے بال نہ بہت زیادہ گھنگریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے، بلکہ ہلکے سے لہردار تھے۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۱۹۳، کتاب الغارات کے حوالے سے
۹۔ آپ کا مبارک چہرہ
«وَ لَمْ يَكُ بِالْمُطَهَّمِ وَ لَا الْمُكَلْثَمِ ؛ وَ كَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ ؛ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ، أَدْعَجُ الْعَيْنِ، أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ، جَلِيلُ الْمُشَاشِ وَ الْكَتَدِ»
"آپ نہ بھاری جسم کے مالک تھے اور نہ بہت گول چہرے والے؛ البتہ چہرے میں ہلکی سی گولائی تھی۔ رنگ روشن تھا جس میں ہلکی سرخی تھی، آنکھیں بڑی اور سیاہ تھیں، پلکیں لمبی تھیں، اور کندھے اور بالائی جسم مضبوط تھے۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۱۹۳
۱۰۔ آپ کی چال اور مہرِ نبوت
«إِذَا مَشَى تَقَلَّعَ، كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ ؛ وَ إِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعاً ؛ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، وَ هُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ»
"جب آپ چلتے تو مضبوطی اور وقار کے ساتھ قدم اٹھاتے، گویا ڈھلوان سے اتر رہے ہوں۔ اور جب کسی طرف متوجہ ہوتے تو پورے جسم کے ساتھ رخ کرتے۔ آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی، اور آپ خاتم النبیین ہیں۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۱۹۳
۱۱۔ کھانے میں سادگی
«بِأَبِي مَنْ لَمْ يَشْبَعْ ثَلَاثاً مُتَوَالِيَةً مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا، وَ لَمْ يَنْخُلْ دَقِيقَهُ»
"میرے والد اس ہستی پر قربان ہوں جس نے دنیا سے رخصت ہونے تک کبھی مسلسل تین دن گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی، اور جس کا آٹا بھی چھانا ہوا نہیں ہوتا تھا۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۱۹۳
۱۲۔ بچپن سے آپ کی آغوش میں پرورش
«وَ قَدْ عَلِمْتُمْ مَوْضِعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ بِالْقَرَابَةِ الْقَرِيبَةِ وَ الْمَنْزِلَةِ الْخَصِيصَةِ ؛ وَضَعَنِي فِي حَجْرِهِ وَ أَنَا وَلِيدٌ، يَضُمُّنِي إِلَى صَدْرِهِ، وَ يَكْنُفُنِي فِي فِرَاشِهِ، وَ يُمِسُّنِي جَسَدَهُ، وَ يُشِمُّنِي عَرْفَهُ ؛ وَ كَانَ يَمْضَغُ الشَّيْءَ ثُمَّ يُلْقِمُنِيهِ ؛ وَ مَا وَجَدَ لِي كَذْبَةً فِي قَوْلٍ، وَ لَا خَطْلَةً فِي فِعْلٍ»
"تم جانتے ہو کہ رسولِ خدا (ص) کے ساتھ میری قریبی قرابت اور خاص منزلت کیا تھی۔ جب میں چھوٹا بچہ تھا تو وہ مجھے اپنی آغوش میں بٹھاتے، اپنے سینے سے لگاتے، اپنے بستر میں مجھے اپنے قریب رکھتے، اپنے جسم کی گرمی مجھے محسوس کراتے اور اپنی خوشبو مجھے سونگھاتے۔ کھانے کا لقمہ چبا کر میرے منہ میں رکھتے۔ انہوں نے کبھی میری بات میں جھوٹ اور میرے عمل میں کوئی خطا نہیں پائی۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۳۸، ص ۳۲۰؛ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲
۱۳۔ عظیم فرشتے کے ذریعے الٰہی تربیت
«وَ لَقَدْ قَرَنَ اللهُ بِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ مِنْ لَدُنْ كَانَ فَطِيماً أَعْظَمَ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَتِهِ ؛ يَسْلُكُ بِهِ طَرِيقَ الْمَكَارِمِ، وَ مَحَاسِنَ أَخْلَاقِ الْعَالَمِ ؛ لَيْلَهُ وَ نَهَارَهُ»
"اللہ نے اس وقت سے، جب رسولِ خدا (ص) کا دودھ چھڑایا گیا، اپنے عظیم ترین فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو ان کے ساتھ مقرر فرمایا، جو رات دن انہیں بزرگی اور دنیا کے بہترین اخلاق کے راستے پر لے جاتا تھا۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۳۸، ص ۳۲۰؛ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲
۱۴۔ "جیسے اونٹ کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے"
«وَ لَقَدْ كُنْتُ أَتَّبِعُهُ اتِّبَاعَ الْفَصِيلِ أَثَرَ أُمِّهِ ؛ يَرْفَعُ لِي فِي كُلِّ يَوْمٍ عَلَماً مِنْ أَخْلَاقِهِ، وَ يَأْمُرُنِي بِالِاقْتِدَاءِ بِهِ»
"میں ان کے پیچھے اسی طرح چلتا تھا جیسے اونٹ کا بچہ اپنی ماں کے نقشِ قدم پر چلتا ہے۔ وہ ہر روز اپنے اخلاق کی ایک نئی نشانی میرے سامنے رکھتے اور مجھے اس کی پیروی کا حکم دیتے۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۳۸، ص ۳۲۰؛ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲
۱۵۔ غارِ حرا کی خلوت
«وَ لَقَدْ كَانَ يُجَاوِرُ فِي كُلِّ سَنَةٍ بِحِرَاءَ فَأَرَاهُ وَ لَا يَرَاهُ غَيْرِي ؛ وَ لَمْ يَجْمَعْ بَيْتٌ وَاحِدٌ يَوْمَئِذٍ فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ خَدِيجَةَ وَ أَنَا ثَالِثُهُمَا ؛ أَرَى نُورَ الْوَحْيِ وَ الرِّسَالَةِ، وَ أَشَمُّ رِيحَ النُّبُوَّةِ»
"ہر سال آپ غارِ حرا میں خلوت اختیار کرتے تھے۔ میں آپ کو دیکھتا تھا اور میرے سوا کوئی اور وہاں آپ کو نہیں دیکھتا تھا۔ اس زمانے میں اسلام نے کسی ایک گھر میں رسولِ خدا (ص)، خدیجہ (س) اور میرے سوا کسی کو جمع نہیں کیا تھا، اور میں ان دونوں کے ساتھ تیسرا تھا۔ میں نورِ وحی و رسالت کو دیکھتا اور نبوت کی خوشبو محسوس کرتا تھا۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۳۸، ص ۳۲۰؛ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲
۱۶۔ نزولِ وحی کے وقت شیطان کی فریاد
«وَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشَّيْطَانِ حِينَ نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ ؛ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الرَّنَّةُ؟ فَقَالَ: هَذَا الشَّيْطَانُ قَدْ أَيِسَ مِنْ عِبَادَتِهِ ؛ إِنَّكَ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ، وَ تَرَى مَا أَرَى، إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ، وَ لَكِنَّكَ وَزِيرٌ، وَ إِنَّكَ لَعَلَى خَيْرٍ»
"جب رسولِ خدا (ص) پر وحی نازل ہوئی تو میں نے شیطان کی فریاد سنی۔ میں نے عرض کیا: اے رسولِ خدا! یہ کیسی آواز ہے؟ فرمایا: یہ شیطان ہے جو اب اپنی عبادت کیے جانے سے ناامید ہو گیا ہے۔ تم وہ سنتے ہو جو میں سنتا ہوں اور وہ دیکھتے ہو جو میں دیکھتا ہوں، مگر تم نبی نہیں ہو؛ بلکہ تم میرے وزیر اور مددگار ہو اور یقیناً خیر پر ہو۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۳۸، ص ۳۲۰–۳۲۱؛ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲
۱۷۔ آپ کا خاندان اور آپ کی عدالت
«عِتْرَتُهُ خَيْرُ الْعِتَرِ، وَ أُسْرَتُهُ خَيْرُ الْأُسَرِ، وَ شَجَرَتُهُ خَيْرُ الشَّجَرِ ؛ نَبَتَتْ فِي حَرَمٍ، وَ بَسَقَتْ فِي كَرَمٍ ؛ لَهَا فُرُوعٌ طِوَالٌ وَ ثَمَرٌ لَا يُنَالُ ؛ فَهُوَ إِمَامُ مَنِ اتَّقَى، وَ بَصِيرَةُ مَنِ اهْتَدَى ؛ سِيرَتُهُ الْقَصْدُ، وَ سُنَّتُهُ الرُّشْدُ، وَ كَلَامُهُ الْفَصْلُ، وَ حُكْمُهُ الْعَدْلُ»
"آپ کی عترت بہترین عترت، آپ کا خاندان بہترین خاندان، اور آپ کا شجرہ بہترین شجرہ ہے۔ وہ حرم میں پروان چڑھا اور بزرگی میں بلند ہوا۔ اس کی شاخیں بلند اور اس کے پھل نہایت بلند مرتبہ ہیں۔ آپ متقی لوگوں کے امام اور ہدایت یافتہ لوگوں کی بصیرت ہیں۔ آپ کی سیرت اعتدال، آپ کی سنت ہدایت، آپ کا کلام حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا، اور آپ کا حکم سراسر عدل ہے۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۳۷۹؛ نہج البلاغہ، خطبہ ۹۴
۱۸۔ آپ کا مقام، آپ کا کلام اور آپ کی خاموشی
«مُسْتَقَرُّهُ خَيْرُ مُسْتَقَرٍّ، وَ مَنْبِتُهُ أَشْرَفُ مَنْبِتٍ ؛ فِي مَعَادِنِ الْكَرَامَةِ وَ مَمَاهِدِ السَّلَامَةِ ؛ قَدْ صُرِفَتْ نَحْوَهُ أَفْئِدَةُ الْأَبْرَارِ، وَ ثُنِيَتْ إِلَيْهِ أَزِمَّةُ الْأَبْصَارِ ؛ دَفَنَ بِهِ الضَّغَائِنَ، وَ أَطْفَأَ بِهِ النَّوَائِرَ ؛ أَلَّفَ بِهِ إِخْوَاناً، وَ فَرَّقَ بِهِ أَقْرَاناً ؛ أَعَزَّ بِهِ الذِّلَّةَ، وَ أَذَلَّ بِهِ الْعِزَّةَ ؛ كَلَامُهُ بَيَانٌ، وَ صَمْتُهُ لِسَانٌ»
"آپ کا ٹھکانا بہترین ٹھکانا اور آپ کی پرورش کا مقام سب سے شریف مقام تھا؛ بزرگی کی کانوں اور سلامتی کے گہواروں میں۔ نیک لوگوں کے دل آپ کی طرف مائل ہو گئے اور نگاہیں آپ کی جانب متوجہ ہوئیں۔ اللہ نے آپ کے ذریعے کینوں کو دفن کیا اور دشمنی کی آگ کو بجھا دیا۔ آپ کے ذریعے لوگوں کو بھائی بھائی بنایا اور حق کے مخالفین کو ایک دوسرے سے جدا کیا۔ آپ کے ذریعے ذلت والوں کو عزت بخشی اور متکبروں کو ذلیل کیا۔ آپ کا کلام خود ایک واضح بیان تھا، اور آپ کی خاموشی بھی گویا زبان رکھتی تھی۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۳۷۹؛ نہج البلاغہ، خطبہ ۹۶
۱۹۔ انبیاء کے شجرے سے منتخب کیے گئے
«اخْتَارَهُ مِنْ شَجَرَةِ الْأَنْبِيَاءِ، وَ مِشْكَاةِ الضِّيَاءِ، وَ ذُؤَابَةِ الْعَلْيَاءِ، وَ سُرَّةِ الْبَطْحَاءِ، وَ مَصَابِيحِ الظُّلْمَةِ، وَ يَنَابِيعِ الْحِكْمَةِ»
"اللہ نے انہیں انبیاء کے شجرے، نور کے چراغدان، عظمت کی بلند ترین چوٹی، بطحاء کے قلب، تاریکیوں کو روشن کرنے والے چراغوں اور حکمت کے چشموں میں سے منتخب فرمایا۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۳۸۱؛ نہج البلاغہ
۲۰۔ آخری وداع
جب امیرالمؤمنین (ع) رسولِ خدا (ص) کے پاکیزہ جسم کو غسل دے چکے تو آپ کے مبارک چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا:
«بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي، طِبْتَ حَيّاً وَ طِبْتَ مَيِّتاً ؛ انْقَطَعَ بِمَوْتِكَ مَا لَمْ يَنْقَطِعْ بِمَوْتِ أَحَدٍ مِمَّنْ سِوَاكَ مِنَ النُّبُوَّةِ وَ الْإِنْبَاءِ ؛ خُصِّصْتَ حَتَّى صِرْتَ مُسَلِّياً عَمَّنْ سِوَاكَ، وَ عَمَّمْتَ حَتَّى صَارَ النَّاسُ فِيكَ سَوَاءً ؛ وَ لَوْ لَا أَنَّكَ أَمَرْتَ بِالصَّبْرِ وَ نَهَيْتَ عَنِ الْجَزَعِ لَأَنْفَدْنَا عَلَيْكَ الشُّئُونَ ؛ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي، اذْكُرْنَا عِنْدَ رَبِّكَ وَ اجْعَلْنَا مِنْ هَمِّكَ»
"میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ زندگی میں بھی پاک تھے اور وفات کے بعد بھی پاک ہیں۔ آپ کی وفات کے ساتھ وہ سلسلہ منقطع ہو گیا جو کسی دوسرے کی وفات سے منقطع نہیں ہوا تھا: نبوت اور آسمانی خبریں۔ آپ کی مصیبت ایسی خاص ہے کہ اس کے مقابلے میں دوسری مصیبتیں آسان ہو جاتی ہیں، اور ساتھ ہی آپ کا غم ایسا عام ہے کہ سب لوگ آپ کے سوگ میں برابر ہیں۔ اگر آپ نے خود صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور بے قراری سے منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم آپ پر روتے روتے اپنی آنکھوں کے تمام آنسو بہا دیتے۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؛ اپنے پروردگار کے حضور ہمیں یاد رکھیے اور ہمیں اپنی عنایت میں شامل رکھیے۔"
ماخذ: بحار الانوار، ج ۲۲، ص ۵۲۶
اللہ کی سلامتی اور رحمت حضرت محمد (ص) اور آپ کی پاکیزہ آل پر ہو، اور اللہ ہمیں آپ کی سیرت کے نور میں چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔



Comments